"چلتے رہنے کو ہی یہ لوگ سفر جانتے ہیں"
بے ہنر ہوتے ہیں جو لوگ ہنر جانتے ہیں
سمت کی کوئی خبر ہے نہ ستارے کا پتا
چلتے رہنے کو ہی یہ لوگ سفر جانتے ہیں
جانتے ہیں کہ جو ہیں جانتے در کو دیوار
جو نہیں جانتے دیوار کو در جانتے ہیں
بے پری کیا ہے کہیں کس سے پروں کے ہوتے
یہ خِرد باز تو بس پر کو ہی پر جانتے ہیں
کون جانے گا وہ تنہائی جو گزری مجھ پر
ہاں مگر وہ کہ جو قطرے کو گہر جانتے ہیں
یہ عبارت کہ جو بے زیر و زبر لکھی گئی
وہی سمجھیں گے کہ جو زیر و زبر جانتے ہیں
میر احمد نوید -
Comments
:'(
Unable are those – who own the abilities
They know no direction – nor about the star
They know mere walking – as journey afar
Knowers are those who know door a wall
Those who don’t know – know wall a door
What shall I call wingless? When I own wings
These winged know only wings the wings
Who shall ever know the forlornness I suffered?
But only those who know an ocean drop a pearl
This verse which – has been written as blank verse
Would be understood by those – who know verses
– In blurry mystique