لمحہٴ فنا کی دکھن دل میں لے کے چل ...
ملتا تھا وہ جہاں اسی آنگن میں لے کے چل
اے چاند مجھے پھر مرے بچپن میں لے کے چل
نایاب ہے یہ گردش سیّارگاں کی راکھ
کچھ سر پہ ڈال کچھ کف و دامن میں لے کے چل
اے نوبہار ناز و کم آمیز اپنے ساتھ
اب کے ہمیں بھی بھیگتے ساون میں لے کے چل
پہروں بس اک خیال کی خاموشیاں سنوں
آبادیوں سے دُور کسی بن میں لے کے چل
آسودگی تو بستر فردا کا خواب ہے
بس لمحہٴ فنا کی دکھن دل میں لے کے چل
- میر احمد نوید
Comments
Really... =)