A Relationship With History

... that we must long for, and that is evident in the following poem of Iqbal.


ہسپانیہ

ہسپانیہ تو خون مسلماں کا امیں ہے 
مانند حرم پاک تو ہے میری نظر میں

پوشیدہ تیری خاک میں سجدوں کے نشان ہیں
خاموش اذانیں ہیں تیری باد سحر میں

 روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی سنانیں
خیمے تھے کبھی جن کے تیرے کوہ و کمر میں 

پھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حنا کی؟ 
باقی ہے ابھی رنگ میرے خون جگر میں!

کیونکر خس و خاشاک سے دب جاۓ مسلمان
مانا وہ  تب و تاب و نہیں اس کے شرر میں!

غرناطہ بھی دیکھا میری آنکھوں نے و لیکن
تسکین مسافر نہ سفر میں حضر میں

دیکھا بھی دکھایا  بھی سنایا بھی سنا بھی
ہے دل کی تسلّی نہ نظر میں نہ خبر میں

-اقبال 

Comments

Dua said…
Allama Iqbal is great N This one is a great poem - He's such an inspiration :-) Nice!
This comment has been removed by the author.
:) thanks. And welcome to the blog.

Popular posts from this blog

Speed-breakers

Company - Ba-gul Nashistan

The road not taken